Archive for نومبر, 2009

Seerat-e-Abu Huraira (سیرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ)

نومبر 21, 2009


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ان عاشقان رسول میں سے ہیں جنہوں نے کاوش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک لفظ، عمل اور ایک ایک ادا کو پورا تحفظ دیں اور حیات نبوی کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جو بقائے دوام سے معمور اور اسفار امت میں مزبور نہ ہو۔ بعد میں آنے والے محدثین ان کے نقش پا پر چلتے رہے اور اعمال نبوت اس محنت سے اعمال امت میں ڈھلتے رہے کہ آقا افضل الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک گوشہ محفوظ اور کتابوں میں مسطور ہے۔ یہ اس امت کا شرف ہے جو اہل کتاب کی آنکھوں کا خار تھا جس نے انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر رکھا تھا اسی وجہ سے وہ علم حدیث پر حملہ آور ہوئے اور ان کا پہلا نشانہ سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔اگر اس جلیل القدر صحابی کی شخصیت مجروح ہوتی ہے تو علم حدیث کی پوری دیوار گرتی ہے اور حدیث نہ ہوتو یہ امت بھی اہل کتاب کی ان صفوں میں آجاتی ہے ۔اہل کتاب کی روش پر چلتے ہوئے بعض نافہم ، کوتاہ اندیش، اور اہل کتاب کے کاشتہ پودوں نے بھی اس صحابی رسول کی شخصیت مجروح کرنے کی کوشش کی۔مولف کتاب نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاکیزہ حالات و سوانح دیدہ ریزی سے جمع کر کے اپنے لیے زاد آخرت اور صراط مستقیم کے طالبین کے لیے سنگ میل مہیا کردیا ہے اور ان وہی نکتہ چینیوں کا جواب با صواب یکجا کر دیا ہے جو اس جلیل صحابی پر ظالم طبقہ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی مولف کو جزائے خیر اور تالیف کو مقبولیت عامہ کے شرف سے سرفراز فرمائے ۔آمین

Advertisements

Khilafat-e-Rashida Idrees Kandhalvi (خلافت راشدہ مولانا ادریس کاندھلوی)

نومبر 21, 2009


علماءدین نے خلفاءراشدین کے فضائل و مناقب میں بے شمار کتابیں لکھیں۔ ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ازالہ الخفاءہے جو اپنے موضوع میں بے مثال اور لاثانی ہے۔ خلافت راشدہ کی حقیقت اور شیخین کی فضیلت کا دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے اثبات موثر انداز میں کیا ہے۔ مولف کتاب نے اس کتاب کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس کتاب کے مقاصد اور مباحث کا خلاصہ کیا ہے اور صرف ضروری روایات پر اکتفاءکرکے عمیق علوم کا احاطہ کیا ہے تاکہ عوام الناس کے لیے مفید ہو اور اہل فہم پر اصل مسئلہ واضح ہو جائے اور خلافت راشدہ کی حقیقت اور اس کے مقام اور مرتبہ سے آگاہ ہو جائیں۔اور بقدر ضرورت کتاب و سنت سے اس کے شواہد پر مطلع ہو جائیں۔

Aasaar-ul-Hadees Vol 01 & 02 (آثار الحدیث جلد اول و دوم)

نومبر 16, 2009

Asr_Hd2Asr_Hd1
مسلمان دیگر مذاہب کے بالمقابل علمِ حدیث میں ممتاز ہے۔ مسلمانوں نے قرآن کریم کے گرد علم حدیث کو پہرہ دار بنایا۔ قرآن کریم کے ساتھ وہ عمل نبوت کو بھی روایت کرتے گئے۔ پہلی پانچ صدیوں میں اس پر خاصی محنت ہوئی یہاں تک کہ علم حدیث کے سائے میں قرآن کریم ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہا۔ حدیث کی اس اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مذاہب عالم کے پیشواﺅں خصوصا اہل کتاب نے علم حدیث پر پوری مستعدی سے تشکیک کے کانٹے بکھیرے اور علمی راہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ مطالعہ اسلام کے لیے بھی مغربی ماخذ پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ عربی نہ جاننے کے باعث اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ علماءکی اردو میں لکھی کتابوں کا مطالعہ وہ اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ پچیس سال پہلے مولف نے پنجاب کے م ختلف تعلیمی اداروں میں حدیث کے موضوع پر کچھ لیکچرز دیے جو تحقیق لفظ حدیث، تاریخ حدیث، موضوع حدیث، ضرورت حدیث، مقام حدیث، اخبار حدیث، قرآن الحدیث، حجیت حدیث، حفاظت حدیث، تدوین حدیث، رجال حدیث، شیعہ اور علم حدیث، اسلوب حدیث، امثال حدیث، غریب الحدیث،آداب الحدیث، قواعد الحدیث، اقسام الحدیث، متون الحدیث، شروح حدیث، تراجم حدیث، ائمہ حدیث، فقہاءحدیث، ائمہ جرح و تعدیل، ائمہ تالیف، ائمہ تخریج، اہل حدیث، منکرین حدیث، مدارس حدیث جیسے اہم ترین موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مولف کو اور اسکی اشاعت و ترویج میں حصہ لینے والوں کو بھی ان خوش قسمتوں میں جگہ دے جنہوں نے پورے اخلاص و محبت سے علم نبوت کے گرد پہرہ دیا ہے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نافع اور مولف کے لیے ذریعہ آخرت بنائے۔ آمین

Ulama-e-Deoband ka Deeni Rukh aur Maslaki Mizaj (علماءدیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج)

نومبر 5, 2009

Dni_Rkh
توازن اعتدال حیات انسانی بلکہ اس کائنات عالم کا وہ وصف خاص ہے جو کسی بھی چیز کو حسن و خوبی بخش کر مظہر کمال بناتا ہے۔ اس توازن اعتدال کی عام زندگی میں جس قدر ضرورت ہے وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں، مگر دین و شریعت میں یہ وصف اور زیادہ ناگزیر اس لئے بن جاتا ہے کہ دین اسلام اور شریعت مطہر ہ پر انسان کا حال و مستقبل دونوں موقوف ہےں اور دین میں اعتدال سے محرومی کا مطلب دنیا و آخرت کی محرومی ہوجاتا ہے۔زیر نظر تصنیف مولف رحمہ اللہ تعالیٰ کی آخری تصنیف ہے جو اپنے اندر علم و حکمت کا بڑا خزانہ رکھتی ہے اور افراط و تفریط کے اس دور میں جب کہ راہ اعتدال کو نمایاں کرنے کی اشد ضرورت ہے یہ کتاب منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے اور یہ حضرت مصنف ان کے اہل خانہ اور کتاب کے ناشرین اور اشاعت و ترویج میں حصہ لینے افراد کے لیے ذخیرہ آخرت ثابت ہو۔ آمین

Masala Qurbani with Saif-e-Yazdani (مسئلہ قربانی مع سیف یزدانی)

نومبر 5, 2009

Qrb_Yzdقربانی تقوی ورع اور تقرب خداوندی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اس میں صرف مادی نقطہ نظر ہی ملحوظ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اعلی درجہ کی روحانی عبادت ہے جس سے متقی اور غیر متقی کا فرق نمایا ں ہوتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ سے خواہش زدہ طبقوں کی جانب سے جن مسائل کو اپنی تحقیق کا تختہ مشق بنایا گیا ہے ان میں ایک قربانی جیسی عظیم عبادت بھی ہے۔اس مختصر رسالہ میں مولف مرحوم نے قرآن کریم ، اور صحیح احادیث اور ٹھوس تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قربانی حاجی اور حرم شریف کے ساتھ مخصوص نہیں جیسا کہ ایک مخصوص خواہش زدہ طبقہ کا خیال ہے، نیز ٹھوس دلائل سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ قربانی کے دن صرف تین ہی ہے اور یہی آئمہ ثلاثہ اور جمہور سلف و خلف کا مسلک ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح بات سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ، آمین ثم آمین۔