Posts Tagged ‘Salafi’

تانیب الخطیب مترجم(Taneeb ul Khateeb)

اگست 30, 2012

محدث ابو بکر احمد بن علی بن ثابت المعروف بخطیب بغدادی الشافعی المتوفی ۴۶۳ھ نے اپنی حدیثی فقہی اور تاریخی خدمات کے باوجود تعصب کے سیلابی ریلے میں بہہ کر تاریخ بغداد میں متروک اور ساقط الاعتبار راویوں کی روایات پر مدار رکھ کر جو من گھڑت افسانے امام اعظم اور ان کے اصحاب کے متعلق پیش کیے ہیں، اور بے جا قسم کے اعتراضات اور مطاعن ذکر کیے ہیں ان کا جواب علامہ کوثری نے اپنی کتاب تانیب الخطیب علی ماساقہ فی ترجمۃ ابی حنیفۃ من الاکاذیب میں دیا ہے۔

علامہ کوثری کی اس کتاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے، تاکہ موجودہ دور کے مخالفین ابی حنیفہ اسی تاریخ بغداد سے اعتراضات لے کر جو فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا سد باب علماء کرام، طلباء عظام اور دیگر عوام الناس باحسن طریق کر سکیں۔والله یقول الحق وهو یهدی السبیل۔

Advertisements

إظهار التحسین فی إخفاء التامین(Izhar-ut-Tehseen fi Ikhfa-ut-Tamee)

جولائی 19, 2012

احناف کرام اور غیر مقلدین حضرات کے درمیان  نماز میں سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنے میں اختلاف نہیں بلکہ آمین بالجہر اور عدم جہر میں ہے۔ نفس آمین میں کوئی اختلاف نہیں۔ بات یہ ہے کہ احناف کرام آمین کے آہستہ کہنے کو مسنون قرار دیتے ہوئے اولی سمجھتے ہیں، اور غیر مقلدین حضرات آمین بالجہر کہنے پر مصر ہے۔ احناف کا موقف یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے شروع میں آمین بالجہر کیا پھر جہر چھوڑ دیا جب کہ غیر مقلدین حضرات کا اصرار ہے کہ آپ نے وفات تک اس کو نہیں چھوڑا۔ دونوں کے دلائل کیا ہیں؟ کس کے دلائل میں کتنی قوت اور کتنا وزن ہے؟ کس کے پاس ٹھوس اور وزنی دلائل ہیں اور کس کا مدار مغالطات پر ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب تو انشاء الله کتاب مذکورہ کتاب کے پڑھنے سے ناظرین کرام کے سامنے واضح ہو جائے گا۔اللہ سے دعا ہے کہ اس سعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے اور ہم سب کیلئے ذریعہ آخرت بنائے۔آمین

Aasaar-ul-Hadees Vol 01 & 02 (آثار الحدیث جلد اول و دوم)

نومبر 16, 2009

Asr_Hd2Asr_Hd1
مسلمان دیگر مذاہب کے بالمقابل علمِ حدیث میں ممتاز ہے۔ مسلمانوں نے قرآن کریم کے گرد علم حدیث کو پہرہ دار بنایا۔ قرآن کریم کے ساتھ وہ عمل نبوت کو بھی روایت کرتے گئے۔ پہلی پانچ صدیوں میں اس پر خاصی محنت ہوئی یہاں تک کہ علم حدیث کے سائے میں قرآن کریم ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہا۔ حدیث کی اس اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مذاہب عالم کے پیشواﺅں خصوصا اہل کتاب نے علم حدیث پر پوری مستعدی سے تشکیک کے کانٹے بکھیرے اور علمی راہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ مطالعہ اسلام کے لیے بھی مغربی ماخذ پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ عربی نہ جاننے کے باعث اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ علماءکی اردو میں لکھی کتابوں کا مطالعہ وہ اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ پچیس سال پہلے مولف نے پنجاب کے م ختلف تعلیمی اداروں میں حدیث کے موضوع پر کچھ لیکچرز دیے جو تحقیق لفظ حدیث، تاریخ حدیث، موضوع حدیث، ضرورت حدیث، مقام حدیث، اخبار حدیث، قرآن الحدیث، حجیت حدیث، حفاظت حدیث، تدوین حدیث، رجال حدیث، شیعہ اور علم حدیث، اسلوب حدیث، امثال حدیث، غریب الحدیث،آداب الحدیث، قواعد الحدیث، اقسام الحدیث، متون الحدیث، شروح حدیث، تراجم حدیث، ائمہ حدیث، فقہاءحدیث، ائمہ جرح و تعدیل، ائمہ تالیف، ائمہ تخریج، اہل حدیث، منکرین حدیث، مدارس حدیث جیسے اہم ترین موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مولف کو اور اسکی اشاعت و ترویج میں حصہ لینے والوں کو بھی ان خوش قسمتوں میں جگہ دے جنہوں نے پورے اخلاص و محبت سے علم نبوت کے گرد پہرہ دیا ہے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نافع اور مولف کے لیے ذریعہ آخرت بنائے۔ آمین

Talaq-e-Salaas aur Hafiz Ibn-e-Qaim (طلاق ثلاث اور حافظ ابن القیم)

ستمبر 14, 2009

Tlq_Ibnایک مجلس کی تین طلاق کا مسئلہ ایک آفت ناگہانی کے طور پر نازل ہوا اور اس سلسلے میں حافظ ابن القیم کا نام اس حیثیت سے بیچ میں آیا کہ جو لوگ ایسی تین طلاقوں کو ایک ہی ماننے کی رائے رکھتے ہیں ان کے دلائل اور موقف کی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شرح و بسط کے ساتھ ترجمانی آپ ہی کی کتابوں میں ملتی ہے۔علامہ ابن القیم نے اپنی تین کتابوں میں تین مختلف عنوانات سے طلاق کے اس مسئلے پر بہت تفصیلی بحث کی ہے، زادالمعاد، اعلام الموقعین، اور اغاثة اللہفان۔ زیر نظر تحریر دراصل علامہ ابن القیم کی تحریروں کا ایک مطالعہ ہے، مسئلہ کا حکم کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ یہ اس مطالعے کا موضوع نہیں اگرچہ ضمنا یہ قاری کو کسی نتیجے پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کا موضوع صرف ابن القیم کے دعوے اور موقف کو ان کے دلائل کی روشنی میں پرکھنا ہے اسی لئے آپ اس میں دوسری طرف کے دلائل بالکل نہیں پائینگے۔اللہ سے دعا ہے کہ اس سعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین

Ulama-e-Deoband Muaasireen ki Nazar me (علمائے دیوبند معاصرین کی نظر میں)

اگست 10, 2009

Ulm_Nzrفرنگی سامراج نے اسلامی عقائد و نظریات میں کفر و شرک کی آمیزش کیلئے علماءو مشائخ کے مقدس روپ میں ایسے ایجنٹ تیار کیے جو قرآن و حدیث کی ایسی غلط تعبیرو تشریح کریں جس سے اسلام اور کفر میں فرق نظر نہ آئے اور انگریز کے خلاف جہاد کے عنوان سے شروع ہونے والی تحریک آزادی کو توڑا جاسکے۔ یہی سلسلہ تاحال جاری ہے، اور روز بروز نئے نئے اسکالرز اور مشائخ اس حکمت عملی کا حصہ بن کر اسلام کے نام پر اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کرنے کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن یہ یاد رہے کہ مثل مشہور ہے کہ کل فرعون موسی، اﷲ تعالیٰ اپنے پسندیدہ ترین دین اور اس کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والے بندوںکی حقانیت لوگوں پر آشکارا کر دیتا ہے۔ زیر نظر رسالہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں علمائے دیوبند کے خلاف الزامات کا طوفان کھڑا کرنے والے مجدد بدعات احمد رضا خان بریلوی کی خوب تردید کی ہے نیز احمد رضا خان کی علمی و دینی خیانت کی بھی خوب نشاندہی کی ہے نیز علمائے حجاز کے درمیان خان بریلوی کے مقام و مرتبہ کی بھی خوب وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی کاوش کو مقبول فرمائیں اور ہم کو قرآن سنت کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے اور شرک و بدعت کی نجاست سے دور رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین

Difa-e-Sahaba (دفاع صحابہ وقت کی اہم ترین ضرورت)

مئی 30, 2009

Dif_Shbہر وہ مسلمان جس کا دل اللہ اور رسول اللہ کی محبت سے لبریز ہو اس پر لازم ہےکے نبی کے تمام اصحاب سے بھی محبت و الفت رکھے کیونکہ اللہ رب العزت نے اس جماعت مقدسہ پر ایسے انعامات کیے ہیں جسمیں ان کا کوءی شریک نہیں۔ اب کوءی دوسرا انسان ان کے کمال استعداد؛ وسعت علوم اور وراثت نبوی کو حاصل نہیں کر سکتا۔ زیر نظر رسالہ ایسی عنوان ”دفاع صحابہ” کی اہمیت اور وقعت کے بیان میں ہے۔دفاع صحابہ کیوں ضروری ہے اور اس کے لیے کءی نقلی و عقلی دلاءل سے اس بات کو ثابت کیا کہ صحابہ کرام کا دفاع ضروری ہے۔ نیز اس رسالہ میں صحابہ کرام کی عظمت و منقبت پر چالیس احادیث بھی جمع کردی ہے۔ خالق لم یزل سے دستہ بدستہ دعا ہے کہ بندے کی صحابہ کی اس خدمت کو قبول کرتے ہوءے شرف قبولیت سے نوازے اور مسلمانوں کے دل میں دفاع صحابہ کے جذبہ کو مزید تقویت دے۔آمین

Murawwaja Qaza-e-Umri Bidat h (مروجہ قضاءے عمری بدعت ہے)

مئی 30, 2009

Qaz_Umrبعض لوگ رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں ایک نماز یا پانچ نمازیں اس نیت سے پڑھتے ہیں کہ اس سے تمام فوت شدہ نمازوں کی قضاء ہو جاتی ہے اور اس کو قضاء عمری کہتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ جمعہ الوداع کے دن الوداع الوداع اے رمضان الوداع جیسے کلمات کہتے ہیں ۔ اس رسالہ میں ثابت کیا گیا ہے کہ قضاء عمری کا یہ طریق بدعت اور ان جیسے کلمات کا شریعت سے کوءی ثبوت نہیں ہے۔ نیز اس رسالہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طبقہ کے فقہاء اور کن کتابوں سے فتوی دینا جاءز اور کن سے فتوی دینا ناجاءز ہے؛ اور موضوع احادیث کی بعض علامات بتاءی گءی ہیں۔ اور غیر مفتی بہ قول سے گریز اور سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی گءی ہے۔

Tehqiq Masala Rafa-e-Yadain (تحقیق مسءلہ رفع یدین)

مئی 30, 2009

Msl_Rfyعام نمازوںمیں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع میں رفع یدین کے متعلق حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے اقوال و افعال مختلف منقول ہوءے ہیں اس لیے یہ مسءلہ ہر دور میں زیر بحث رہا ہے اور علماءے سلف و خلف نے دیگر مساءل اجتہادیہ کی طرح اس مسءلہ پر بھی اپنے اپنے علم و فہم اور نقطہ نظر کے مطابق گفتگو کی ہے لیکن چونکہ تنوع اور مختلف صورتیں ثابت بالسنہ رہی ہیں اس لیے اس میں وحدت و یکسانیت پیدا نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی ایک صورت کو سنت و ہدایت اور دوسری کو بدعت و ضلالت کہا جا سکتا ہے۔ مگر عصر حاضر کے غیر مقلدین کا ایک طبقہ اس مسءلہ کو حق کی علامت اور اہل سنت والجماعت کی پہچان کے طور پر پیش کر رہا ہے اور رفع یدین نہ کرنے والوں کو تارک سنت مخالف رسول اور ان کی نمازوں کو ناقص بلکہ باطل تک کہنے میں باک محسوس نہیں کرتا۔ زیر نظر رسالہ کسی کی تردید و تغلیط اور بحث و مناظرہ کے لیے نہیں بلکہ اس غرض سے ترتیب دیا گیا ہے کہ عام مسلمان جو علم یا فرصت کی کمی کے سبب براہ راست فقہ اور حدیث کی بڑی کتابوں کی مراجعت نہیں کر پاتے اس مختصر رسالہ کے مطالعہ سے انہیں یقین طور پر معلوم ہوجاءے کہ رفع یدین سے متعلق ان کا طریقہ عمل احادیث کے مطابق ہے۔

Talaq-e-Salaas (طلاق ثلاث)

مئی 30, 2009

Tlq_Slsدور حاضر میں ”طلاق ثلاث” کا مسءلہ روشن خیال دانشوروں کی اجتہاد پسند اور اباحیت نواز فکر و نظر سے گزر کر زبان و قلم کا ہدف بنا ہوا ہے۔ اور عورتوں کی مظلومیت کی آڑمیں اسلام اور علماء اسلام کو دل کھول کر طعن و تشنیع کا نشانہ بنارہاہے۔ اور ایک ایسا مسءلہ جو چودہ سو برسوں پہلے طے پاچکا ہے جسے تمام صحابہ؛ جمہور تابعین؛ تبع تابعین؛ اکثر محدثین ۔؛ فقہاء مجتہدین؛ بالخصوص اءمہ اربعہ اور امت کے سواد اعظم کی سند قبولیت حاصل ہے جس کی پشت پر قرآن محکم اور نبی مرسل کی احادیث قویہ ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھا کر اور عامت المسلمین کو اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے یہ اسلام کے نادان دوست اسلام کی کونسی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں خداہ ہی بہتر جانتاہے۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرماءے۔آمین

Muhaddiseen-e-Uzzam aur unki Kitabain (محدثین عظام اور انکی کتابیں)

جنوری 6, 2009

mhd_bksدور حاضر میں جدیدیت اور عقل پرستی کی میزان کو بنیاد بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ارشادات کے حیثیت کو مشکوک بنا کر دین کے بہت بڑے حصے کو ناقابل عمل ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں؛ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء و محدثین عظام کی طرف سے پیش کی جانی والی قربانیوں کو ضاءع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ زیر نظر کتاب میںمولف نے صحاح ستہ یعنی صحیح بخاری؛ صحیح مسلم؛ سنن ترمذی؛ سنن ابی داءود؛ سنن نساءی؛ سنن ابن ماجہ کے علاوہ موطا امام مالک؛ موطا امام محمد اور طحاوی شریف؛ ان نو معیاری کتب اور ان کے مصنفین کے تفصیلی حالات قلمبند کیے ہیں تاکہ عوام الناس ان کتب پر کی جانیوالی محنت اور مصنفین کی طرف سے دی جانیوالی قربانیوں سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اور دینی مساءل کے اہم ماخذ ”حدیث” کی شرعی حیثیت سے واقف ہو کراپنی دنیا اور آخرت سنوار سکیں۔