Posts Tagged ‘Muqallideen’

Aasaar-ul-Hadees Vol 01 & 02 (آثار الحدیث جلد اول و دوم)

نومبر 16, 2009

Asr_Hd2Asr_Hd1
مسلمان دیگر مذاہب کے بالمقابل علمِ حدیث میں ممتاز ہے۔ مسلمانوں نے قرآن کریم کے گرد علم حدیث کو پہرہ دار بنایا۔ قرآن کریم کے ساتھ وہ عمل نبوت کو بھی روایت کرتے گئے۔ پہلی پانچ صدیوں میں اس پر خاصی محنت ہوئی یہاں تک کہ علم حدیث کے سائے میں قرآن کریم ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہا۔ حدیث کی اس اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مذاہب عالم کے پیشواﺅں خصوصا اہل کتاب نے علم حدیث پر پوری مستعدی سے تشکیک کے کانٹے بکھیرے اور علمی راہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ مطالعہ اسلام کے لیے بھی مغربی ماخذ پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ عربی نہ جاننے کے باعث اصل ماخذ تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ علماءکی اردو میں لکھی کتابوں کا مطالعہ وہ اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ پچیس سال پہلے مولف نے پنجاب کے م ختلف تعلیمی اداروں میں حدیث کے موضوع پر کچھ لیکچرز دیے جو تحقیق لفظ حدیث، تاریخ حدیث، موضوع حدیث، ضرورت حدیث، مقام حدیث، اخبار حدیث، قرآن الحدیث، حجیت حدیث، حفاظت حدیث، تدوین حدیث، رجال حدیث، شیعہ اور علم حدیث، اسلوب حدیث، امثال حدیث، غریب الحدیث،آداب الحدیث، قواعد الحدیث، اقسام الحدیث، متون الحدیث، شروح حدیث، تراجم حدیث، ائمہ حدیث، فقہاءحدیث، ائمہ جرح و تعدیل، ائمہ تالیف، ائمہ تخریج، اہل حدیث، منکرین حدیث، مدارس حدیث جیسے اہم ترین موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مولف کو اور اسکی اشاعت و ترویج میں حصہ لینے والوں کو بھی ان خوش قسمتوں میں جگہ دے جنہوں نے پورے اخلاص و محبت سے علم نبوت کے گرد پہرہ دیا ہے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نافع اور مولف کے لیے ذریعہ آخرت بنائے۔ آمین

Advertisements

Talaq-e-Salaas aur Hafiz Ibn-e-Qaim (طلاق ثلاث اور حافظ ابن القیم)

ستمبر 14, 2009

Tlq_Ibnایک مجلس کی تین طلاق کا مسئلہ ایک آفت ناگہانی کے طور پر نازل ہوا اور اس سلسلے میں حافظ ابن القیم کا نام اس حیثیت سے بیچ میں آیا کہ جو لوگ ایسی تین طلاقوں کو ایک ہی ماننے کی رائے رکھتے ہیں ان کے دلائل اور موقف کی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شرح و بسط کے ساتھ ترجمانی آپ ہی کی کتابوں میں ملتی ہے۔علامہ ابن القیم نے اپنی تین کتابوں میں تین مختلف عنوانات سے طلاق کے اس مسئلے پر بہت تفصیلی بحث کی ہے، زادالمعاد، اعلام الموقعین، اور اغاثة اللہفان۔ زیر نظر تحریر دراصل علامہ ابن القیم کی تحریروں کا ایک مطالعہ ہے، مسئلہ کا حکم کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ یہ اس مطالعے کا موضوع نہیں اگرچہ ضمنا یہ قاری کو کسی نتیجے پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کا موضوع صرف ابن القیم کے دعوے اور موقف کو ان کے دلائل کی روشنی میں پرکھنا ہے اسی لئے آپ اس میں دوسری طرف کے دلائل بالکل نہیں پائینگے۔اللہ سے دعا ہے کہ اس سعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین

Talaq-e-Salaas (طلاق ثلاث)

مئی 30, 2009

Tlq_Slsدور حاضر میں ”طلاق ثلاث” کا مسءلہ روشن خیال دانشوروں کی اجتہاد پسند اور اباحیت نواز فکر و نظر سے گزر کر زبان و قلم کا ہدف بنا ہوا ہے۔ اور عورتوں کی مظلومیت کی آڑمیں اسلام اور علماء اسلام کو دل کھول کر طعن و تشنیع کا نشانہ بنارہاہے۔ اور ایک ایسا مسءلہ جو چودہ سو برسوں پہلے طے پاچکا ہے جسے تمام صحابہ؛ جمہور تابعین؛ تبع تابعین؛ اکثر محدثین ۔؛ فقہاء مجتہدین؛ بالخصوص اءمہ اربعہ اور امت کے سواد اعظم کی سند قبولیت حاصل ہے جس کی پشت پر قرآن محکم اور نبی مرسل کی احادیث قویہ ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھا کر اور عامت المسلمین کو اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے یہ اسلام کے نادان دوست اسلام کی کونسی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں خداہ ہی بہتر جانتاہے۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرماءے۔آمین

Muhaddiseen-e-Uzzam aur unki Kitabain (محدثین عظام اور انکی کتابیں)

جنوری 6, 2009

mhd_bksدور حاضر میں جدیدیت اور عقل پرستی کی میزان کو بنیاد بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ارشادات کے حیثیت کو مشکوک بنا کر دین کے بہت بڑے حصے کو ناقابل عمل ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں؛ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء و محدثین عظام کی طرف سے پیش کی جانی والی قربانیوں کو ضاءع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ زیر نظر کتاب میںمولف نے صحاح ستہ یعنی صحیح بخاری؛ صحیح مسلم؛ سنن ترمذی؛ سنن ابی داءود؛ سنن نساءی؛ سنن ابن ماجہ کے علاوہ موطا امام مالک؛ موطا امام محمد اور طحاوی شریف؛ ان نو معیاری کتب اور ان کے مصنفین کے تفصیلی حالات قلمبند کیے ہیں تاکہ عوام الناس ان کتب پر کی جانیوالی محنت اور مصنفین کی طرف سے دی جانیوالی قربانیوں سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اور دینی مساءل کے اہم ماخذ ”حدیث” کی شرعی حیثیت سے واقف ہو کراپنی دنیا اور آخرت سنوار سکیں۔