Archive for دسمبر, 2009

Tasawwuf wa Sulook (تصوف و سلوک)

دسمبر 15, 2009


آج امت مسلمہ کی زبوں حالی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ جھوٹ سچ سے اور کھوٹا کھرے سے بالکل پیوست نظر آتا ہے۔جس طرح علم ظاہر کے حامل علمائے حق کی صفوں میں علمائے سوءداخل ہو چکے ہیں ، اسی طرح علم باطن کے حامل مشائخ حق پرست کے بھیس میں نفس پرست لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کی روحانی اور باطنی تنزلی کی انتہا یہاں تک ہو چکی کہ ایک طبقے نے بیعت طریقت کو لازم قرار دے کر فرائض کے ترک کرنے اور شریعت اور طریقت کو الگ الگ ثابت کرنے کا بہانہ بنا لیا ۔ ضلو ا فا ضلوا (خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔ دوسرے طبقے نے بیعت طریقت کو گمراہی سمجھ کر اس کی مخالف کا بیڑا اٹھا لیا۔ ویا اسفی
ان حالات میں اہل حق کیلئے افراط و تفریط کے شکار ان دونوں طبقوں سے چومکھی لڑائی لڑنے کے سوا چارہ نہیں۔ تاکہ احکام شریعت کو نکھار کر پیش کیا جائے اور حق و باطل کی حد فاصل کو واضح کیا جائے۔ زیر نظر کتاب میں مولف نے افراط و تفریط سے دامن بچائے ہوئے اہل سنت والجماعت کے حقیقی نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔علم تصوف، تصوف کیا ہے، لفظ صوفی کی تحقیق،بیعت طریقت کا شرعی ثبوت، ضرورت مرشد، آداب مرشد، خانقاہوں کا قیام، اعتقادات، اسباق تصوف، معمولات شب و روز، معارف و حقائق، اخلاق حمیدہ ، تصوف کے متعلق کیے جانے والے عمومی سوالات وغیرہ جیسے اہم ترین عنوانات پر تسکین بحث کی ہے۔رب کائنات سے دعا ہے کہ روز محشر اس ناچیز کوشش کو قبول فرما کر فقیر کو بخشش کئے ہوئے گنہگاروں کی قطار میں شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین

Advertisements

Aasaar-ut-Tanzeel Vol 1 and 2 (آثارالتنزیل جلد اول و دوم)

دسمبر 10, 2009


قرآن کریم اتارا ہوا پروردگار عالم کا اسے روح الامین لےکر اترے ہیں آپ کے دل پر تاکہ آپ ڈر سنانیوالوں میں سے ہوں۔ یہ عربی مبین میں ہے اور یہ ہے (اصولا) پہلی کتابوں میں بھی۔ مختصر تعارف قرآن بالقرآن کے بعد عرض ہے کہ قرآن کریم کا تعارف اور اس کا فہم و ادراک عقل و فلسفہ سے نہیں، لفظوں کے زیرو بم سے نہیں، بلند و بانگ دعوں سے نہیں، بلکہ ذات رسالت اور خیر امت سے وابستہ ہے۔زیر نظر کتاب میں مولف نے دراصل جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور یونیورسٹی طلبہ کے ذہن کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن پاک کا تعارف مختلف جہات سے کرایا گیا ہے۔ قرآن کے اس تعارف میں طلبہ کے ذہن کو ان تعبیرات سے پاک رکھا گیا ہے جو اسلام کے چودہ سو سالہ سرمایہ علم میں نہیں ملتی، کیونکہ ہر نئی چیز میں ایک لذت اور دلچسپی تو مل جاتی ہے لیکن ان جدید تعبیرات کو ایک سلسلہ نہیں کہہ سکتے، سلسلہ وہی ہے جو مسلسل چلا آئے۔ اسلام ایک کامل دین ہے جو چودہ سو سالہ محفوظ تاریخ رکھتا ہے اور زندگی کے تمام جدید تقاضوں میں بھی مکمل راہنمائی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم تاویلات جدیدہ سے اسے اپنے ماضی سے نہیں کاٹ سکتے۔ اگر اسلام کی جدید تعبیرات صحیح بھی ہوں تو صرف جزئیات کا حکم رکھتی ہیں۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے۔
جلد اول ضرورة القرآن، خصوصیات القرآن، صداقت القرآن، فضائل القرآن ، نزول القرآن، جمع القرآن، کتابت القرآن، ترتیب القرآن، احرف القرآن، حفاظت القرآن، حفظ القرآن، لسان القرآن، ترجمة القرآن، تجوید القرآن، قرا ت القرآن، اسلوب القرآن، سور القرآن، ایمان القرآن، مقام القرآن، علوم القرآن، حقائق القرآن، تلاوت القرآن، اعجاز القرآن، نسخ فی القرآن، اور تاثیر القرآن جیسے اہم ترین موضوعات پر مشتمل ہے،
جبکہ جلد دوم ایک قرآن، آداب القرآن، ارض القرآن، امثال القرآن، اصطلاحات القرآن، اصحاب القرآن، قصص القرآن، تراجم القرآن،تفسیر القرآن، ربط القرآن، علاج بالقرآن، لغات القرآن، فہرست بست بابی لمضامین القرآن، اور آراءالمستشرقین فی بیان القرآن جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔
اللہ رب العزت کے حضور میں دعا ہے کہ وہ آثار التنزیل کو قبولیت بخشے اور اس خدمت کو ان تمام حضرات کے باقیات صالحات میں جگہ دے جن کی ہمت اور اعانت سے یہ نادر علمی تحفہ اشاعت پذیر ہوا ہے اور عوام الناس کے لیے نافع اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین

Shahadat-e-Hussain wa Kirdar-e-Yazeed (شہادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ و کرداریزید)

دسمبر 7, 2009


پاکستان میں اہل سنت والجماعت کی غفلت اور ناواقفیت کی وجہ سے شیعیت وغیرہ دوسرے فتنوں کے ساتھ خارجیت بعنوان یزیدیت کا فتنہ بھی پھیل رہا ہے جس میں عوام الناس مبتلا ہو رہے ہیں۔زیر نظر رسالہ دراصل اسی خارجیت کی تردید میں اہل سنت والجماعت کے موقف کی تائید و ترویج کی ایک کاوش ہے جو دراصل حجة الاسلام استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالی کا ایک مکتوب ہے۔حضرت نانوتوی قدس سرہ ¾ نے اس مکتوب گرامی میں شہادت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر مجتہدانہ بحث فرمائی ہے اور یہ بھی ثابت فرمایا ہے کہ یزید کے کردار میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا دامن بالکل پاک ہے اور ان پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔کچھ لوگ شیعیت کی تردید میں افراط و تفریط میں مبتلاہیں اور اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسلک سے منحرف ہوئے ہےں۔ حق تعالی ہم سب کو مذہب اہلسنت والجماعت کی اتباع، خدمت اور نصرت کی ہمیشہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ امام الانبیاءوالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔