Posts Tagged ‘Arkaan-e-Islam’

إظهار التحسین فی إخفاء التامین(Izhar-ut-Tehseen fi Ikhfa-ut-Tamee)

جولائی 19, 2012

احناف کرام اور غیر مقلدین حضرات کے درمیان  نماز میں سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنے میں اختلاف نہیں بلکہ آمین بالجہر اور عدم جہر میں ہے۔ نفس آمین میں کوئی اختلاف نہیں۔ بات یہ ہے کہ احناف کرام آمین کے آہستہ کہنے کو مسنون قرار دیتے ہوئے اولی سمجھتے ہیں، اور غیر مقلدین حضرات آمین بالجہر کہنے پر مصر ہے۔ احناف کا موقف یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے شروع میں آمین بالجہر کیا پھر جہر چھوڑ دیا جب کہ غیر مقلدین حضرات کا اصرار ہے کہ آپ نے وفات تک اس کو نہیں چھوڑا۔ دونوں کے دلائل کیا ہیں؟ کس کے دلائل میں کتنی قوت اور کتنا وزن ہے؟ کس کے پاس ٹھوس اور وزنی دلائل ہیں اور کس کا مدار مغالطات پر ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب تو انشاء الله کتاب مذکورہ کتاب کے پڑھنے سے ناظرین کرام کے سامنے واضح ہو جائے گا۔اللہ سے دعا ہے کہ اس سعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے اور ہم سب کیلئے ذریعہ آخرت بنائے۔آمین

Advertisements

Rasool-e-Akram SAWW ka Tareeqa-e-Namaz (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز)

ستمبر 1, 2009

Rsl_Nmzتقلید سے آزادی کی گمراہی اور انگریز کی سرپرستی میں آزاد ذہن طبقہ دو فرقوں میں بٹ گیا ایک نے اپنا نام اہل قرآن اور دوسرے نے اہل حدیث رکھ لیا۔ اور دونوں نے فقہ حنفی کے خلاف تحریروتقریر سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا کہ فقہ حنفی قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اور فقہ حنفی میں حدیث کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عوام کی نظر چونکہ پورے ذخیرہ حدیث پر نہیں ہوتی اس لئے وہ اس گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں یا کم از کم فقہ حنفی کے بارے میں کنفیوز رہتے ہیں، یہاں تک کہ ارکان خمسہ میں سے اہم ترین رکن نماز ہی کے بارے میں وساوس و شبہات سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ زیر نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں نماز کی نیت سے لیکر سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے تک ہر حرکت و سکون پر قرآنی آیات اور مستند احادیث کے ٹھوس دلائل کا مجموعہ اور مخالفین کے دلائل کا مسکت جواب دینے کے ساتھ ساتھ اختلافی پہلووں میں سوالات کے جوابات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہر حنفی مسلمان کے لئے اپنے موضوع پر مکمل اور تحقیق کتاب۔

Ilm-e-Din aur Humary Bachchy (علم دین اور ہمارے بچے)

مئی 31, 2009

Ilm_Bchمغربی تہذیب و تمدن نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے اپنے شکنجہ میں جکڑ لیا ہے جس سے بڑوں اور بچوں سب کی ذہنی تربیت (Brain Washing)ہو رہی ہے۔ مسلمان اپنی شناخت بھولتے جا رہے ہیں اور اکثریت کے دماغ پر مغربیت چھاءی جا رہی ہے۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی طرف بھی راغب کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے ننھے منے بچوں کے لیے ایسا ماحول اور نصاب فراہم کریں جس سے وہ اس حقیقت سے آشنا ہوں کہ ہم اس فانی دنیا میں کس لیے آءے ہیں؟ کیا کرنے آءے ہیں؟ اور کیا کر کے واپس جاءیں گے؟ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب مرتب کی گءی ہے۔امید ہے کہ ابتداءی درجات میں اس نصاب کے پڑھانے سے معصوم بچے کسی قدر دینیات سے آگاہ ہو جاءیں گے اور بے دینی کے سیلاب سے بچاءوکی شکل پیدا ہوجاءے گی۔ اللہ تعالی اس کو نافع و مفید بناءے۔آمین

Tehqiq Masala Rafa-e-Yadain (تحقیق مسءلہ رفع یدین)

مئی 30, 2009

Msl_Rfyعام نمازوںمیں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع میں رفع یدین کے متعلق حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے اقوال و افعال مختلف منقول ہوءے ہیں اس لیے یہ مسءلہ ہر دور میں زیر بحث رہا ہے اور علماءے سلف و خلف نے دیگر مساءل اجتہادیہ کی طرح اس مسءلہ پر بھی اپنے اپنے علم و فہم اور نقطہ نظر کے مطابق گفتگو کی ہے لیکن چونکہ تنوع اور مختلف صورتیں ثابت بالسنہ رہی ہیں اس لیے اس میں وحدت و یکسانیت پیدا نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی ایک صورت کو سنت و ہدایت اور دوسری کو بدعت و ضلالت کہا جا سکتا ہے۔ مگر عصر حاضر کے غیر مقلدین کا ایک طبقہ اس مسءلہ کو حق کی علامت اور اہل سنت والجماعت کی پہچان کے طور پر پیش کر رہا ہے اور رفع یدین نہ کرنے والوں کو تارک سنت مخالف رسول اور ان کی نمازوں کو ناقص بلکہ باطل تک کہنے میں باک محسوس نہیں کرتا۔ زیر نظر رسالہ کسی کی تردید و تغلیط اور بحث و مناظرہ کے لیے نہیں بلکہ اس غرض سے ترتیب دیا گیا ہے کہ عام مسلمان جو علم یا فرصت کی کمی کے سبب براہ راست فقہ اور حدیث کی بڑی کتابوں کی مراجعت نہیں کر پاتے اس مختصر رسالہ کے مطالعہ سے انہیں یقین طور پر معلوم ہوجاءے کہ رفع یدین سے متعلق ان کا طریقہ عمل احادیث کے مطابق ہے۔

Imam ke Pechay Muqtadi ki Qirat (امام کے پیچھے مقتدی کی قرات کا حکم)

مئی 30, 2009

Qrt_Khlزیر نظر رسالہ میں مولف نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کی حدیثوں کو جمع کیا ہے اور چونکہ یہ رسالہ عام مسلمانوں کے علمی معیار کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے اس لیے علمی و فنی مباحث سے احتراز کرتے ہوءے فقط احادیث اور اس کے ترجمے اور بقدر ضرورت تشریح کے لکھنے پر اکتفاء مناسب سمجھا ہے۔ البتہ حاشیہ میں بعض احادیث کے سلسلے میں اختصار کے ساتھ ضروری اصولی مباحث بھی درج ہیں چونکہ علماء غیر مقلدین کی یہ عام عادت ہے کہ اپنے نقطہ نظر کے خلاف صحیح و حسن درجہ کی احادیث بھی کھینچ تان کر کوءی فنی سقم پیدا کر کے اسے رد کر دیتے ہیں۔مولف نے رسالہ کی ترتیب یوں قاءم کی ہے کہ سب سے پہلے زیر بحث مسءلہ میں قرآن سے دلیل پیش کی گءی ہے پھر احادیث رسول ترتیب دیے ہیں بعد ازاں حضرات صحابہ اور تابعین عظام کے آثار و اقوال نقل کیے گءے ہیں اور آخر میں اءمہ اربعہ کے مذاہب بیان کیے ہیں۔

Mustanad Namaz-e-Hanafi (مستند نماز حنفی)

مئی 26, 2009

Imd_Nmzقرب قیامت کے فتنوں میں سے اس زمانہ میں ایک فتنہ کچھ عرصہ پہلے سے فقہاء اسلام سے بیزاری اختیار کرتے ہوءے بذات خود فقہی مساءل کا قرآن و حدیث سے استنباط شروع کر دیا ہے۔اور قرآن و حدیث کے خوبصورت نعرے سے عام مسلمانوں کو اکابرین اسلام کے طریقہ سے باغی بنایا اور خود بھی اسی چھاپ میں آگءے۔اور تحقیق کی دور میں ان کو چند ایک مساءل ہی یاد رہے جیسے فاتحہ خلف الامام؛ رفع یدین؛ آمین بالجہر؛ تراویح؛ تین طلاقیں وغیرہ اور ان کے دلاءل کیلءے بھی علماء شوافع اور شافعی محدثین کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔نماز کے تعلق تقریبا تمام مساءل کے دلاءل قرآن و سنت او صحابہ و تابعین اور اءمہ اسلام اور محدثین اور کتب اسماء الرجال سے چیدہ چیدہ جمع کر دیے ہیں ۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس سعی کو قبول فرماءے اور دنیا و آخرت میں ہدایت و کامیابی کا ذریعہ بناءے۔آمین

Al-Kalam-ul-Havi (الکلام الحاوی فی تحقیق عبارت الطحاوی)

مئی 22, 2009

Klm_Hviزیر نظر رسالہ میں مولف نے تحقیق اور جستجوسے صحیح احادیث؛ حضرات صحابہ کرام؛ تابعین؛ اءمہ اربعہ اور مختلف مکاتیب فکر کے جمہور فقہاء کرام سے باحوالہ یہ ثابت کیا ہے کہ سادات کے لیےژکوہ ؛ عشر؛ نذر اور اسی طرح کے واجب قسم کا کوءی بھی صدقہ جاءز نہیں اور جن حضرات کو حضرت امام طحاوی کی جس عبارت سے جواز کا شبہ ہوا ہے اس کو خوب واضح کیا گیا ہے کہ وہ ہرگز جواز کے قاءل نہیں ہیں نیز دیگر کءی ضمنی اور علمی و تحقیقی ابحاث ہیں جو صرف پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔انشاء العزیز یہ کتاب حکومت اور عوام سب کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے تاکہ ذکواہ اور صدقات واجبہ کو اسی طریقے سے ادا کریں اور وصول کریں جس طریقہ سے شریعت نے حد بندی کی ہے تاکہ ذکواہ وغیرھا دینے والوں کا ذمہ بھی فارغ ہو سکے اور لینے والے بھی حرامخوری سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالی سب کو صحیح دین پر چلنے کی توفیق نصیب فرماءے۔ آمین ثم آمین

Zakat ke Masail Encyclopedia (زکواہ کے مساءل کا انساءیکلوپیڈیا)

مئی 20, 2009

Zkt_Encزکوہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے؛ صاحب نصاب لوگوں کے لیے سالانہ ڈھاءی فیصد بطور زکوہ نکالنا فرض ہے؛ زکوہ نکالنے سے باقی ساڑھے ستانوے فیصد مال پاک ہو جاتا ہے اور اللہ کی طرف سے اس مال کی حفاظت ہوتی ہے اور غریبوں کے گھر آبادرہتے ہیں۔مجتہدین کرام کو شریعت کی تدوین و تاسیس کا شرف حاصل ہے تو متاخرین کو تسہیل و ترتیب؛ تہذیب و تنقیح اور توسیع؛ تاکید و تلخیص کی فضیلت حاصل ہے۔ آج کے علماء کا امت پر بڑا احسان ہے کہ وہ اسلاف کے علمی جواہر پاروں کو امت کے سامنے ان کے مزاج اور ذوق کے مطابق پیش کردیں۔ اس خدمت کا احساس کرتے ہوءے محترم محمد انعام الحق صاحب نے زکوہ سے متعلق فقہی مساءل کو حروف تہجی کے حساب سے آسان اور سہل انداز میں ترتیب دیا ہے؛ جس کی وجہ سے عوام الناس کو انہیں تلاش کرنے میں آسانی ہوءی ہے۔اللہ تبارک وتعالی ان کی سعی کو قبول فرماءیں اور ہم سب کی نجات کا ذریعہ بناءے۔ آمین

Rafa-e-Yadain (رفع یدین)

مارچ 23, 2009

rfa_ydn1

غیر مقلدین حضرات نے عرصہ سے علماء احناف کو عوام میں بدنام کرنے اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کے لیے جن فروعی اور اختلافی مساءل کا سہارا لیا ہے ان میںرفع یدین کا مسءلہ بھی شامل ہے۔ رفع یدین کا مسءلہ عہد صحابہ سے اختلافی ہے۔ معدودے چند صحابہ رفع یدین کے قاءل ہیں اور جمہور صحابہ کا عمل ترک رفع ہے۔ امام بخاری کا مسلک رفع یدین ہے؛ انہوں نے اس مسءلہ پر ایک مستقل رسالہ ”جزء رفع الیدین” بھی تصنیف فرمایا ہے۔
زیر نظر رسالہ میں مولف نے امام بخاری کی پیش کردہ روایات کی روشنی میں مسءلے کو منقح کیا گیا ہے کہ ان روایات سے رفع یدین ثابت ہے اور نفس ثبوت کا کوءی منکر بھی نہیں ہے لیکن رفع یدین کی ترجیح پر ان روایات سے استدلال ناتمام ہے؛ پھر اس موضوع پر دیگر دلاءل بھی زیر بحث آءے ہیں جن کی ترک رفع کی اولویت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرماءے۔آمین

Qirat Khalaf-al-Imam (قرات خلف الامام)

مارچ 23, 2009

qrt_immغیر مقلدین حضرات نے عرصہ سے علماء احناف کو عوام میں بدنام کرنے اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کے لیے جن فروعی اور اختلافی مساءل کا سہارا لیا ہے ان میں فاتحہ خلف الامام کا مسءلہ سر فہرست ہے۔ فریق ثانی کے تیرھوی صدی ہجری کے وکیل اعظم مولانا عبدالرحمن مبارکپوری کی کتاب تحقیق الکلام پر فریق ثانی کے مسءلہ زیر بحث پر مناظرہ کا دارومدار ہے امام خطابی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ اس مسءلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف تھا ایک گروہ قرات خلف الامام کا قاءل اور دوسرا گروہ منکر تھا اسی لیے فقہاء کرام اور اءمہ دین کا بھی اس میں اختلاف ہے۔
لہذا اس موضوع پر محض احقاق حق کی نیت سے یہ رسالہ جو مولف نے فریق ثانی کے مطالبہ کے عین مطابق یعنی صحیح بخاری میں پیش کردہ دلالءل کی روشنی میں تالیف کیا ہے تاکہ قارءین کی رہنماءی کی جاسکے اور حق اور باطل میں تفریق آسان ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق قبول کرنے کی اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرماءے اور اسکی تحریر؛ تلخیص اور اشاعت و ترویج میں حصہ لینے والوں کے دارین میں کامیابی کا ذریعہ بناءے۔آمین