Archive for the ‘دفاع اکابرین امت’ Category

تانیب الخطیب مترجم(Taneeb ul Khateeb)

اگست 30, 2012

محدث ابو بکر احمد بن علی بن ثابت المعروف بخطیب بغدادی الشافعی المتوفی ۴۶۳ھ نے اپنی حدیثی فقہی اور تاریخی خدمات کے باوجود تعصب کے سیلابی ریلے میں بہہ کر تاریخ بغداد میں متروک اور ساقط الاعتبار راویوں کی روایات پر مدار رکھ کر جو من گھڑت افسانے امام اعظم اور ان کے اصحاب کے متعلق پیش کیے ہیں، اور بے جا قسم کے اعتراضات اور مطاعن ذکر کیے ہیں ان کا جواب علامہ کوثری نے اپنی کتاب تانیب الخطیب علی ماساقہ فی ترجمۃ ابی حنیفۃ من الاکاذیب میں دیا ہے۔

علامہ کوثری کی اس کتاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے، تاکہ موجودہ دور کے مخالفین ابی حنیفہ اسی تاریخ بغداد سے اعتراضات لے کر جو فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا سد باب علماء کرام، طلباء عظام اور دیگر عوام الناس باحسن طریق کر سکیں۔والله یقول الحق وهو یهدی السبیل۔

Advertisements

فقہ ولی اللّٰہی خدمات و اثرات و ثمرات(Fiqah Wali-ul-Lahi Khidmat wa Asraat wa Samrat)

دسمبر 22, 2010

برصغیر ہندو پاک کی تاریخ میں حضرت شاہ ولی اﷲکی شخصیت مرکز ثقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ حضرت شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی سے پہلے بھی برصغیر میں ہر علم و فن کی بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنے روشن کارناموں سے برصغیر کی عظمت میں چار چاند لگائے اور حضرت شاہ ولی اﷲکے بعد بھی بلند قامت شخصیتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ برصغیر ہی نہیں پوری دنیا میں مسلمانوں پر برصغیر کی سرزمین سے اٹھنے اور یہاں پروان چڑھنے والی شخصیات کے احسانات رہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اﷲ کی جامعیت و آفاقیت ان کا اعتدال و توازن ان کے فکر کی گہرائی اور رسائی ان کی افراد سازی کی نظیر برصغیر کی تاریخ میں بہت مشکل سے ملے گی۔حضرت نے یہ بات محسوس کی کہ ایک طبقہ تقلید جامد میں غلو کر رہا ہے اور اس کے رد عمل میں امت میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہور ہا ہے جو سرے سے تقلید کا انکار کرتا ہے اور عامۃ الناس کے لیے بھی تقلید کو حرام کرتا ہے ، حضرت شاہ ولی اللہ نے راہ اعتدال بتانے کی کوشش کی اور امت کے مختلف گروہوں کو علمی و فقہی طور پر ایکد وسرے سے قریب لانے اور ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن پیدا کرنے کے لیے اپنی علمی و فکری توانائیاں صرف کردیں۔ ہر طبقہ میں پائی جانے والی بے اعتدالیوں کی نشاندہی اور ہر طبقہ کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طبقہ نے اپنا انتساب حضر ت کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا اور جس راہ عمل کی نشاندہی کی تھی اس پر عمل کرنے کے بجائے حضرت کی شخصیت پرتنازعہ شروع کر دیا۔زیر نظر رسالہ میں اس کشمکش کو حل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ اللہ سے دعاہے کہ ہماری رہنمائی فرمائے ۔ آمین

شاہ اسماعیل شہید دہلوی (Shah Ismail Shaeed Dehlvi)

دسمبر 21, 2010

پاک ہند کی تحریک آزادی کن تیرہ و تاریک راہوں سے گزر کر منزل سے ہمکنار ہوئی اور علمائے اسلام کہاں کہاں دریائے خون میں تیرے ان واقعات کی یاد سے ہماری تاریخ میں تسلسل پیدا ہوتا ہے اور مضمحل رگوں میں تازہ خون کی لہر اٹھتی ہے ہم ذرا ماضی کی طرف پلٹیں تو بہتر سے بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس تحریک کے سابقین اولین فکری طور پر حضرت امام شاہ ولی اﷲاور حضرت شاہ عبدالعزیز اور عملی طور پر ان کے خلفاء حضرت سید احمد شہید اور حضرت مولانا اسماعیل شہید تھے۔ ان شہیدوں نے سرزمین ہند میں قربانیوں کی ابتداء کی ملت ابراہیم کو اپنے پہلے اسماعیل پر بھی ناز ہے اور پچھلے اسماعیل کی قربانی پر بھی۔تحریک آزادی نے آئندہ بھی مختلف کروٹیں لیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک آزادی کے خاکے میں پہلا رنگ شہدائے بالاکوٹ کے خون نے بھراتھا۔

حضرت مولانا اسماعیل شہید کو بدنام کرنے میں بیرونی سامراج نے کوئی کمی نہیں کی جدید نسلوں کو اپنے ماضی سے کاٹنے کے لیے ان حضرات کے خلاف تفرقے کے سائے اس بھیانک انداز میں پھیلائے گئے کہ ملت خواہ مخواہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ یہ مختصر رسالہ اس سلسلہ کی کڑی ہےیہ اہل حق کا دفاع ہے اور محدثین دہلی سے تاریخی وابستگی کی ایک حسین یاد ہے ۔ اسوقت پاکستان میں اور بیرون پاکستان فریب خوردہ واعظوں کی ایک لمبی قطار لگی ہے، جو شب و روز مولانا اسماعیل شہید کے خلاف گستاخی رسول کا لاوا اگلتے ہیں اور اس ذوق تکفیر میں ان کے پینے پلانے کے جام چھلکتے ہیں۔تاریخ کو مسخ کرنے کے اس جاہلانہ شوق پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔حضرت مولانا اسماعیل شہید کے خلاف جو جو الزامات سے تصنیف کئے گئے ہیں ان تفصیلی جواب کے لیے بہت سی جزئیات خود مولانا شہید کی تحریرات سے ہی پیش کی گئی ہیں۔ 

پاک ہند کی تحریک آزادی کن تیرہ و تاریک راہوں سے گزر کر منزل سے ہمکنار ہوئی اور علمائے اسلام کہاں کہاں دریائے خون میں تیرے ان واقعات کی یاد سے ہماری تاریخ میں تسلسل پیدا ہوتا ہے اور مضمحل رگوں میں تازہ خون کی لہر اٹھتی ہے ہم ذرا ماضی کی طرف پلٹیں تو بہتر سے بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس تحریک کے سابقین اولین فکری طور پر حضرت امام شاہ ولی اﷲاور حضرت شاہ عبدالعزیز اور عملی طور پر ان کے خلفاء حضرت سید احمد شہید اور حضرت مولانا اسماعیل شہید تھے۔ ان شہیدوں نے سرزمین ہند میں قربانیوں کی ابتداء کی ملت ابراہیم کو اپنے پہلے اسماعیل پر بھی ناز ہے اور پچھلے اسماعیل کی قربانی پر بھی۔تحریک آزادی نے آئندہ بھی مختلف کروٹیں لیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک آزادی کے خاکے میں پہلا رنگ شہدائے بالاکوٹ کے خون نے بھراتھا۔

حضرت مولانا اسماعیل شہید کو بدنام کرنے میں بیرونی سامراج نے کوئی کمی نہیں کی جدید نسلوں کو اپنے ماضی سے کاٹنے کے لیے ان حضرات کے خلاف تفرقے کے سائے اس بھیانک انداز میں پھیلائے گئے کہ ملت خواہ مخواہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ یہ مختصر رسالہ اس سلسلہ کی کڑی ہےیہ اہل حق کا دفاع ہے اور محدثین دہلی سے تاریخی وابستگی کی ایک حسین یاد ہے ۔ اسوقت پاکستان میں اور بیرون پاکستان فریب خوردہ واعظوں کی ایک لمبی قطار لگی ہے، جو شب و روز مولانا اسماعیل شہید کے خلاف گستاخی رسول کا لاوا اگلتے ہیں اور اس ذوق تکفیر میں ان کے پینے پلانے کے جام چھلکتے ہیں۔تاریخ کو مسخ کرنے کے اس جاہلانہ شوق پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔حضرت مولانا اسماعیل شہید کے خلاف جو جو الزامات سے تصنیف کئے گئے ہیں ان تفصیلی جواب کے لیے بہت سی جزئیات خود مولانا شہید کی تحریرات سے ہی پیش کی گئی ہیں۔

حضرت نانوتوی کی خدمات ختم نبوت (Hazrat Nanotvi ki Khidmat-e-Khatm-e-Nabuwwat)

نومبر 24, 2010

 

ختم نبوت کے عظیم اور اہم عنوان پر حضرت نانوتوی نے اپنی کتب میں بہت سے مقامات پر کلام فرمایا ہے اور خاص اس موضوع پر تحذیر الناس بھی تحریر فرمائی ہے۔ یہ عالی قدر مضامین حضرت اقدس کی مختلف کتب و رسائل میں منتشر تھے جناب مولف نے سب کو ایک لڑی میں پرو کر بڑی خدمت انجاد دی ہے۔ کتاب سے واضح ہو جائیگا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے حضرت اقدس نانوتوی کی خدمات برصغیر کی تاریخ میں اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں ، اؔٓپ کے بعد اس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا اور جو خدمات سر انجاد دی گئیں وہ سب آپ کی مرہون منت ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی اکابر کے ساتھ جوڑے رکھے۔آمین

مقام صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم (Maqam-e-Sahaba)

نومبر 15, 2010


مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب ایک ایسے موضوع پر لکھی گئی ہے جو ہمارے زمانے میں عرصہ سے معرکہ بحث و جدال بنا ہوا ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے علاوہ خود اہل سنت کے مختلف گروہوں نے اس میں افراط و تفریط اختیار کی ہوئی ہے اور مستشرقانہ تحقیق کی وبائے عام نےاس میں اور شدت پیدا کی ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس موضوع پر محققانہ اور ناصحانہ گفتگو کی ہے، اور مسئلے کے ایسے ایسے پہلووں پر روشنی ڈالی ہے جن میں وہ شاید اب تک منفرد ہیں۔اس کتاب میں آپ کو علم ،عقل اور عشق کا وہ حسین امتزاج ملے گا جو اہل سنت کی نمایاں خصوصیت ہے، اور امید ہے کہ انشاء اللہ یہ کتاب دلوں سے شکوک و شبہات کے بہت سے کانٹے نکال دے گی، واللہ الموفق والمعین

Imam Abu Hanifa ki Tabiat(امام ابوحنیفہ کی تابعیت)

مئی 29, 2010


حضرت امام رحمة اﷲ علیہ ائمہ اربعہ میں ایک خاص ممتاز اور منفرد حیثیت کے حامل ہیں جس کی وجہ ان کی وہ خصوصیات اور امتیازات ہیں جو دوسرے ائمہ میں نہیں پائے جاتے، اور انہیں خصوصیات کی بناءپر آپ کو امام اعظم کے لقب سے ملقب کیا جاتا ہے۔اور اہل علم اس حقیقت کو خوب جانتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی اکثریت فقہی احکام میں امام اعظم کی پیرو ہے۔ امام صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا ان میں سے ایک اہم خصوصیت ان کی تابعیت ہے، یہ وہ خصوصیت ہے جس میں ائمہ مذاہب اربعہ میں امام اعظم ابو حنیفہ ہی یکتا و منفرد ہیں ، یہ کتاب اس موضوع پرنہایت جامع اور قیمتی معلومات پر مشتمل ہے جس سے اردو زبان کا دامن خالی تھا۔اس کتاب کے چند اہم مباحث حسب ذیل ہیں: تابعیت کیا؟ امام حنیفہ نے کن کن صحابہ کا زمانہ پایا؟ کن حضرات صحابہ سے آپ کو شرف ملاقات حاصل ہے؟ کن حضرات صحابہ سے آپ کی روایت ثابت ہے؟
ہماری دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حضرت امام اعظم کے طفیل اس کوشش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہمیں ان کی برکت سے سرفراز کرے۔آمین

Shahadat-e-Hussain wa Kirdar-e-Yazeed (شہادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ و کرداریزید)

دسمبر 7, 2009


پاکستان میں اہل سنت والجماعت کی غفلت اور ناواقفیت کی وجہ سے شیعیت وغیرہ دوسرے فتنوں کے ساتھ خارجیت بعنوان یزیدیت کا فتنہ بھی پھیل رہا ہے جس میں عوام الناس مبتلا ہو رہے ہیں۔زیر نظر رسالہ دراصل اسی خارجیت کی تردید میں اہل سنت والجماعت کے موقف کی تائید و ترویج کی ایک کاوش ہے جو دراصل حجة الاسلام استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالی کا ایک مکتوب ہے۔حضرت نانوتوی قدس سرہ ¾ نے اس مکتوب گرامی میں شہادت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر مجتہدانہ بحث فرمائی ہے اور یہ بھی ثابت فرمایا ہے کہ یزید کے کردار میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا دامن بالکل پاک ہے اور ان پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔کچھ لوگ شیعیت کی تردید میں افراط و تفریط میں مبتلاہیں اور اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسلک سے منحرف ہوئے ہےں۔ حق تعالی ہم سب کو مذہب اہلسنت والجماعت کی اتباع، خدمت اور نصرت کی ہمیشہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ امام الانبیاءوالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

Ulama-e-Deoband Muaasireen ki Nazar me (علمائے دیوبند معاصرین کی نظر میں)

اگست 10, 2009

Ulm_Nzrفرنگی سامراج نے اسلامی عقائد و نظریات میں کفر و شرک کی آمیزش کیلئے علماءو مشائخ کے مقدس روپ میں ایسے ایجنٹ تیار کیے جو قرآن و حدیث کی ایسی غلط تعبیرو تشریح کریں جس سے اسلام اور کفر میں فرق نظر نہ آئے اور انگریز کے خلاف جہاد کے عنوان سے شروع ہونے والی تحریک آزادی کو توڑا جاسکے۔ یہی سلسلہ تاحال جاری ہے، اور روز بروز نئے نئے اسکالرز اور مشائخ اس حکمت عملی کا حصہ بن کر اسلام کے نام پر اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کرنے کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن یہ یاد رہے کہ مثل مشہور ہے کہ کل فرعون موسی، اﷲ تعالیٰ اپنے پسندیدہ ترین دین اور اس کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والے بندوںکی حقانیت لوگوں پر آشکارا کر دیتا ہے۔ زیر نظر رسالہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں علمائے دیوبند کے خلاف الزامات کا طوفان کھڑا کرنے والے مجدد بدعات احمد رضا خان بریلوی کی خوب تردید کی ہے نیز احمد رضا خان کی علمی و دینی خیانت کی بھی خوب نشاندہی کی ہے نیز علمائے حجاز کے درمیان خان بریلوی کے مقام و مرتبہ کی بھی خوب وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی کاوش کو مقبول فرمائیں اور ہم کو قرآن سنت کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے اور شرک و بدعت کی نجاست سے دور رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین

Fazail-e-Aamal per Aitrazaat Q (فضاءل اعمال اعتراض کیوں؟)

مئی 30, 2009

Fzl_Atrدور حاضر میں لغویات میں مشغولیت اور دین سے دوری کے سبب عوام الناس میں اعمال کی اہمیت روبہ زوال ہے اور جیسا کہ قرون اولی میں اس کا معمول بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ الحمد للہ مولف کتب فضاءل نے وقت کی اس اہم ضرورت کو دیکھتے ہوءے رساءل تالیف کیے جو”فضاءل اعمال” کے نام سےمجموعی شکل میں اکناف و اطراف میں پھیل گءے۔ اور افادہ عامہ کا سبب بنے۔ لیکن کچھ لوگوں کو یہ قبولیت راس نہ آءی اور اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گءی۔ زیر نظر رسالہ انہی رساءل کے دفاع میں تحریر کیا گیا ہے۔

Difa-e-Sahaba (دفاع صحابہ وقت کی اہم ترین ضرورت)

مئی 30, 2009

Dif_Shbہر وہ مسلمان جس کا دل اللہ اور رسول اللہ کی محبت سے لبریز ہو اس پر لازم ہےکے نبی کے تمام اصحاب سے بھی محبت و الفت رکھے کیونکہ اللہ رب العزت نے اس جماعت مقدسہ پر ایسے انعامات کیے ہیں جسمیں ان کا کوءی شریک نہیں۔ اب کوءی دوسرا انسان ان کے کمال استعداد؛ وسعت علوم اور وراثت نبوی کو حاصل نہیں کر سکتا۔ زیر نظر رسالہ ایسی عنوان ”دفاع صحابہ” کی اہمیت اور وقعت کے بیان میں ہے۔دفاع صحابہ کیوں ضروری ہے اور اس کے لیے کءی نقلی و عقلی دلاءل سے اس بات کو ثابت کیا کہ صحابہ کرام کا دفاع ضروری ہے۔ نیز اس رسالہ میں صحابہ کرام کی عظمت و منقبت پر چالیس احادیث بھی جمع کردی ہے۔ خالق لم یزل سے دستہ بدستہ دعا ہے کہ بندے کی صحابہ کی اس خدمت کو قبول کرتے ہوءے شرف قبولیت سے نوازے اور مسلمانوں کے دل میں دفاع صحابہ کے جذبہ کو مزید تقویت دے۔آمین