گستاخی رسول اور اسلام (Gustaakh-e-Rasool aur Islam)

اس وقت دنیائے اسلام جس دور سے گزر رہی ہے یہ دور اسلامی تاریخ کا انتہائی مشکل اور کٹھن دور ہے۔ امت مسلمہ کو جو مشکلات آج درپیش ہیں شاید ماضی میں اتنی مشکلات کبھی درپیش نہیں ہوئیں۔ ہر آنے والا دن خطرے یا پریشانی کی ایک نئی جہت لے کر آتاہے۔حالیہ دنوں میں اخبارات میں داعیٔ اسلام، محسن انسانیت اور پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کو تنقیص و توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پاکستان میں موجود توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنےکی سازشیں کی جارہی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑی متاع ایمان ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن محبوب خدا حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی شان اقدس میں ادنی بے ادبی اور گستاخی اس کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ نیز توہین رسالت کا قانون مغربی معاشرہ کی دوغلی فطرت کا عکاس ہے جہاں حضرت مریم، حضرت عیسی اور صدر امریکہ کے بارے میں گستاخی تو قابل سزا جرائم ہیں لیکن پیغمبر اسلام کی توہین و تنقیص کو آزادی اظہار کا نام دیا جاتاہے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سب کا یہ فرض ہے کہ مغربی عناصر کی ریشہ دوانیوں کو سمجھیں اور توہین رسالت کے خلاف اٹھنی والی ہر آواز کومنہ توڑ جوا ب دیں۔ ان عناصر کی سازشوں کو سمجھنے کے لیے یہ رسائل ترتیب دیے گئے ہیں، اللہ مؤلفین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم انہیں سمجھنے اور اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہمارا حشر شہدائے ناموس رسالت میں فرمائے۔آمین ثم آمین

ٹیگز: , , , , , , , , ,


%d bloggers like this: